9 اکتوبر 2012 - 20:30

صہیونی ذرا‏ئع کے ساتھ ساتھ مغربی ذرائع بھی حیرت زدہ اور پریشان ہیں کوئی نہیں جانتا کہ ڈیمونا سے 30 کلومیٹر کے فاصلے میں مارگرایاجانے والا ڈرون کس ملک کا تھا؟ ایرانی تھا یا نہیں؟

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال کے آخر میں ایران کے الیکٹرانک وارفئیر فورسز سے امریکہ کے الٹرا ماڈرن ڈرون آرکیو 170 کے کمانڈ سسٹم کو ہیک کرکے اس کو ایران میں اتارا اور بعد میں معلوم ہوا کہ اس کو ڈیکوڈ کیا گیا ہے اور اس میں موجودہ پورا ڈیٹا ہی اتارا گیا ہے۔ معلوم ہوا کہ وہ خاص خاص مقامات کی نگرانی کے لئے ایران میں داخل ہوا تھا۔ گوگل کے کے منیجنگ ڈائریکٹر ایرک سمتھ نے اس زمانے میں سی این این سے کہا تھا کہ یہ اندیشہ پہلے سے ہی موجود تھا کہ ایران کوڈڈ سافٹ ويئر کو ڈیکوڈ کرے کیونکہ ایرانی سائبر سائنسز میں عجیب قسم کی صلاحیت رکھتے ہیں جس کی وجوہات کا ہمیں علم نہيں ہے۔ آرکیو 170 کو صحیح و سالم اتارے جانے کے واقعے کی اہمیت کے لئے یہی ثبوت کافی ہے کہ صدر اوباما نے ذاتی طور پر ایران سے یہ ڈرون واپس کرنے کی درخواست کی۔اس ڈرون کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں حتی کہ ایک مہینہ قبل سپاہ پاسداران کے کمانڈر انچیف نے شاہد 129 الٹراماڈرن ایرانی ڈرون کی تیاری کا اعلان کیا جو مسلسل چوبیس گھنٹے پرواز کرسکتا ہے اور نگرانی کے علاوہ فوجی اور جنگی مشن پر بھی جاسکتا ہے، میزائل فائر کرسکتا ہے اور بم گرا سکتا ہے۔ پھر اس ہفتے کے آغاز پر نیوز ایجنسیوں نے ایک خبر دی کہ ایک نامعلوم ڈرون مقبوضہ فلسطین میں غاصب یہودی ریاست کی ایٹمی تنصیبات "ڈیمونا" سے 30 یا چالیس کلومیٹر کے فاصلے پر گرایا گیا ہے۔ صہیونی ریاست کے ریڈیو نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے اس کے پس پردہ قوت کا نام لینے سے گریز کیا ہے یا پھر انہیں واقعی معلوم نہيں ہے کہ یہ ڈرون کس نے بھیجا ہے؟ ریڈیو اسرائیل نے کہا کہ "یہ خیال بھی پایا جاتا ہے کہ یہ ڈرون غزہ کی پٹی سے اسرائیلی فضاؤں میں داخل ہوگیا ہے اور اس کا مشن معلوم جمع کرنا تھا"۔ ایران میں صرف سپاہ پاسداران کے کوارڈی نیٹر جنرل کے نائب نے اس خبر کے بارے میں بعض سوالات کا جواب دیا ہے گوکہ انھوں نے اس ڈرون کے ایرانی یا غیر ایرانی ہونے کے حوالے سے مغربی اور صہیونی تبصروں پر رد عمل ظاہر نہیں کیا اور کہا: اس سلسلے میں دو موضوعات قابل غور ہیں: ایک یہ کہ ممکن ہے یہ سب کچھ نفسیاتی کاروائی ہو اور دوسرے یہ کہ اسرائیل کے اس دنیا میں متعدد دشمن ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر پھر یہ ڈرون فلسطین میں حقیقتاً داخل ہوا ہو اور یہ سب صہیونی تشہیری اور نفسیاتی جنگ کا حصہ نہ ہو تو مانی ہوئی بات ہے کہ صہیونیوں کی آہنی گنبد اور پیٹریاٹ طیارہ شکن یا میزائل شکن پروگرام میں ابھی تک متعدد خامیاں موجود ہیں کیونکہ ایک ڈرون کم چوڑائی والی سر زمین میں 100 کلومیٹر تک پرواز کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کا طیارہ شکن نظام بہت ہی کمزور ہے۔ بریگیڈیئر جنرل جمال الدین آبرومند نے مزید کہا: گذشتہ سال بھی جب غزہ پٹی سے فلسطینی مجاہدین نے کئی میزائل صہیونیوں کی جانب فائر کئے اور وہ  نشانے پر لگے تو ہاآرتص نامی صہیونی اخبار نے آہنی گنبد کی تضحیک کرتے ہوئے لکھا: "آہنی گنبد سورہی ہے"۔ لیکن اب ایک ڈرون فلسطین میں 100 کلومیٹر تک داخل ہوا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل کی آہنی گنبد ہی نہیں سوئی صہیونی ریاست ہی الیکٹرانک وارفئیر کی گہرائیوں سے ناواقف ہے اور اس ڈرون کی مقبوضہ سرزمین میں داخلے سے صہیونی ریاست کی کمزوری مزید اعلانیہ ہوچکی ہے۔

.....

/169-110

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

ایک نامعلوم ڈرون اسرائیل کی فضاؤں میں، صہیونی فضا بدامنی کا شکار